وادیٔ سون میں منظم راشن ڈرائیو

Picture of دلشاد آحمد افاقی

دلشاد آحمد افاقی

اوگالی

کیپٹن غلام محمد اعوان فاؤنڈیشن نے  وادیٔ سون کے مختلف دیہات میں تصدیق شدہ فہرست کے مطابق بیواؤں، یتیموں اور دیگرمستحق خاندانوں تک راشن پیکجز پہنچائے۔

یہ تقسیم ایک منظم اور شفاف طریقۂ کار کے تحت عمل میں لائی گئی، جس کا مقصد ضرورت مند خاندانوں تک باوقار انداز میں امداد کی فراہمی تھا۔

خدمتِ خلق کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان ہوتی ہے، اور وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں صاحبِ استطاعت افراد کمزور طبقات کا سہارا بنتے ہیں۔ اسی جذبۂ ذمہ داری کے تحت یہ مہم مکمل کی گئی۔ یہ اقدام نہ صرف ایک فلاحی سرگرمی تھا بلکہ سماجی ہم آہنگی شفافیت اور باہمی اعتماد کی عملی مثال بھی ثابت ہوا وادیٔ سون اپنی قدرتی خوبصورتی زرخیز زمین اور محنتی لوگوں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے مگر گزشتہ چند برسوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی محدود روزگار اور معاشی دباؤ نے کئی گھروں کے حالات کو متاثر کیا ہے خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایسے سفید پوش خاندان موجود ہیں جو اپنی عزتِ نفس کے باعث مدد مانگنے سے گریز کرتے ہیں غلام محمد اعوان فاؤنڈیشن نے انہی خاندانوں تک خاموشی اور وقار کے ساتھ مدد پہنچانے کو اپنا مقصد بنایا اس راشن ڈرائیو کی خاص بات اس کا منظم اور شفاف طریقۂ کار تھا تقسیم سے قبل مکمل سروے کیا گیا معاشی حالات کا جائزہ لیا گیا اور مقامی سطح پر تصدیق کے بعد مستحقین کی فہرست مرتب کی گئی اس عمل میں نوجوان رضاکاروں نے کلیدی کردار ادا کیا انہوں نے گھر گھر جا کر معلومات اکٹھی کیں ضرورت مند خاندانوں کی نشاندہی کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ امداد حقیقی حقداروں تک پہنچے یہی شفافیت فاؤنڈیشن کی پہچان بن چکی ہے راشن پیکج میں روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے خوردونوش شامل تھیں تاکہ مستحق خاندان ماہِ رمضان اور عید کے ایام سکون اور اطمینان کے ساتھ گزار سکیں تقسیم کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو ہر خاندان کو باوقار انداز میں امداد فراہم کی گئی کیونکہ غلام محمد اعوان فاؤنڈیشن کے نزدیک خدمت کا اصل حسن احترام اور رازداری میں پوشیدہ ے

چھ سو سے زائد خاندانوں تک رسائی صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک اجتماعی کامیابی کی علامت ہے اس کے پیچھے  رضاکاروں کی محنت اور فاؤنڈیشن کی دیانت دارانہ حکمتِ عملی کارفرما ہے اس مہم نے ثابت کیا کہ اگر نیت خالص ہو اور نظام مضبوط ہو تو محدود وسائل میں بھی بڑے پیمانے پر فلاحی کام انجام دیے جا سکتے ہیں

فاؤنڈیشن اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ معاشرے کی ترقی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائے تو محرومیوں کا اندھیرا کم اور امید کی روشنی زیادہ ہو سکتی ہے

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کارِ خیر کو قبول فرمائے اور جن خاندانوں تک یہ راشن پہنچا ان کے گھروں میں آسانیاں اور خوشحالی نصیب فرمائےیہی خدمت کا اصل مقصد اور کامیابی ہے



Share this post