احمد ندیم قاسمی – لفظوں کا درویش، احساس کا شاعر

اردو ادب کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو صرف قلم کار نہیں بلکہ ایک عہد کی پہچان بن جاتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمیؔ بھی انہی میں سے ایک ہیں — وہ شاعر بھی تھے، افسانہ نگار بھی، نقاد بھی، مدیر بھی، اور سب سے بڑھ کر انسان دوست اور حقیقت پسند مفکر۔

ابتدائی زندگی

احمد ندیم قاسمیؔ کا اصل نام احمد شاہ اعوان تھا۔ وہ 20 نومبر 1916ء کو وادی سون کے خوبصورت گاؤں انگہ (ضلع خوشاب) میں پیدا ہوئے۔ فطرت سے قربت اور دیہی زندگی کا مشاہدہ بعد میں ان کی شاعری اور افسانوں میں ایک خاص خوشبو کی طرح شامل رہا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ لاہور منتقل ہوئے جہاں سے ان کا ادبی سفر حقیقتاً شروع ہوا۔

ادبی خدمات

قاسمیؔ نے شاعری اور افسانہ دونوں میدانوں میں اپنی انفرادیت منوائی۔
ان کے افسانوں میں دیہی زندگی، سماجی ناہمواریاں، انسانی دکھ اور عورت کا درد بڑی سادگی اور گہرائی سے بیان ہوا۔ “کپاس کا پھول”، “گھر سے گھر تک” اور “نیلا پتھر” ان کے مشہور افسانوی مجموعے ہیں۔

بطور شاعر، قاسمیؔ نے روایتی اور جدید دونوں اسالیب کو اپنایا۔ ان کی شاعری میں انسان دوستی، فطرت سے عشق، اور زندگی کے بنیادی سوالات کی بازگشت ملتی ہے۔ “شعلۂ گل”، “دشتِ وفا” اور “لوحِ خاک” جیسے مجموعے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

انسان دوستی اور فکر

احمد ندیم قاسمیؔ کے نزدیک ادب کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ سماج کی اصلاح اور انسان کے احساسات کی ترجمانی ہے۔ ان کی تحریروں میں غریب کسان، مزدور، عورت، اور پسے ہوئے طبقے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ان کا لہجہ کبھی شکوہ کرتا ہے، کبھی حوصلہ دیتا ہے، اور کبھی آئینہ دکھاتا ہے۔

ادارتی و تنقیدی کردار

قاسمیؔ نے کئی دہائیوں تک معروف ادبی مجلہ فنون کی ادارت کی، جو اردو ادب میں نئی نسل کے ادیبوں کے لیے ایک تربیت گاہ ثابت ہوا۔ انہوں نے فیض احمد فیض، منیر نیازی، جمیل الدین عالی اور دیگر بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا اور بے شمار نوجوان لکھنے والوں کی رہنمائی کی۔

اعزازات اور خدمات کا اعتراف

ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں “تمغۂ حسنِ کارکردگی” (1968) اور “ستارۂ امتیاز” (1980) سے نوازا۔
ان کا انتقال 10 جولائی 2006ء کو لاہور میں ہوا، مگر ان کے الفاظ اور احساسات آج بھی زندہ ہیں۔

احمد ندیم قاسمیؔ کا کمال یہ ہے کہ ان کی تحریریں وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں، بلکہ ہر دور کے انسان سے بات کرتی ہیں۔ ان کا قلم دراصل محبت، درد، اور سچائی کی وہ
صدا ہے جو دلوں تک اترتی ہے۔

ایوانِ سخن – خراجِ عقیدت

انہی روایتوں کو زندہ رکھنے اور ادب کی شمع کو مزید روشن کرنے کے لیے
بیادِ احمد ندیم قاسمیؔ
وادی کی مایہ ناز ادبی تنظیم بزمِ قاسمی وادئ سون کے زیرِ اہتمام
پندرہ نومبر ۲۰۲۵ بروز ہفتہ، صبح 10 بجے، جے اے اسکول سسٹم اوگالی وادئ سون سکیسر میں
ایک خوبصورت ادبی تقریب “ایوانِ سخن مشاعرہ” منعقد ہو رہی ہے۔

،اس مشاعرے میں وادیِ سون کے معروف شعرا و شاعرات اپنا کلام پیش کریں گے

یہ ادبی تقریب سی جی ایم اے فاؤنڈیشن وادیِ سون کے تعاون سے منعقد ہو رہی ہے۔
یہ اقدام سی جی ایم اے فاؤنڈیشن کی ادب دوستی، ثقافتی شعور، اور سماجی ذمے داری کا منہ بولتا ثبوت ہے 
جو نہ صرف تعلیم و فلاح بلکہ وادیِ سون کی ادبی و تہذیبی روایتوں کی ترویج میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

Share this post