گل سلطان
اوگالی
لائبریری: روشنی کا مینار
موضع اوگالی میں ایک خواب کی تابندہ تعبیر
دنیا کے ہر روشن دل اور بیدار مغز انسان کو معلوم ہے کہ لائبریری محض ایک عمارت یا کتابوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، یہ ایک ایسا مقدس گوشہ ہوتا ہے جہاں سوچیں جنم لیتی ہیں، خواب پروان چڑھتے ہیں اور نئی نسلوں کا مستقبل سنورتا ہے۔ تمدن کی تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے کتاب سے دوستی کی، وہ علم و ہنر کی بلندیوں تک پہنچیں، اور جنہوں نے اس رشتے کو کمزور کیا، وہ وقت کے اندھیروں میں گم ہوگئیں۔
لائبریری ایک ایسا چراغ ہے جو وقت کے طویل سفر میں کبھی مدھم نہیں پڑتا۔ اس کی روشنی نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ یہ انسان کے ذہن کو غذا، سوچ کو قوت اور دل کو وسعت عطا کرتی ہے۔ یہاں بیٹھ کر مطالعہ کرنے والا نوجوان گویا کائنات کے بے شمار جہانوں میں سفر کرتا ہے اور ان دیکھے تجربات کا علم اپنی مٹھی میں بھر لیتا ہے۔
کتاب اور لائبریری کا رشتہ — تہذیب کا استعارہ
کتاب انسان کے ذہن کو نئی دنیا کی طرف کھولتی ہے۔ لائبریری اسی کتاب کی مرکزی جائے پناہ ہے—جہاں فکر کی خوشبو بکھری ہوتی ہے، جہاں ہر صفحہ صدیوں کی حکمت سنبھالے بیٹھا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لائبریری میں داخل ہوتے ہی انسان خود کو ایک ایسی بزم میں پاتا ہے جہاں الفاظ بولتے ہیں، خیالات بیدار ہوتے ہیں اور دل میں ایک نئی دنیا آباد ہونے لگتی ہے۔
مطالعے کی عادت نہ صرف ذہن کو جلا بخشتی ہے بلکہ اخلاق، مزاج، برداشت اور مکالمے کی روح کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ لائبریری کے دروازے اس بات کے گواہ ہیں کہ یہاں آنے والا کبھی خالی نہیں لوٹتا—چاہے وہ علم لے کر جائے، کوئی نیا خیال، کوئی نئی امید یا زندگی کی سمت بدل دینے والا سبق۔
وادیٔ سون سکیسر میں ایک خواب—جو تعبیر بن گیا
لیکن لائبریری کی اصل تقدیس تب دوچند ہو جاتی ہے جب یہ کسی دور اندیش انسان کی خواہش سے جنم لے اور کسی پاکیزہ ارادے کی طاقت سے حقیقت کا روپ دھار لے۔
وادیٔ سون کے دل میں آباد موضع اوگالی بھی ایسے ہی ایک روشن خواب کا امین ہے۔
یہ خواب الحاج کیپٹن غلام محمد مرحوم نے برسوں پہلے دیکھا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ترقی یافتہ معاشروں کی بنیادیں کتابوں کے سائے میں رکھی جاتی ہیں، اور گاؤں کے نوجوانوں کا مستقبل اسی وقت روشن ہوگا جب ان کے ہاتھوں میں کتاب ہو گی اور ان کے سامنے علم کی دنیا کھل جائے گی۔
کیپٹن غلام محمد مرحوم کی یہ خواہش محض ایک خیال نہیں تھی بلکہ نسلوں کی فکری تربیت کا عزم تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اوگالی کے نوجوان تعلیم کی راہوں پر قدم رکھیں، دنیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے آگاہ ہوں اور جدید فکر کا حصہ بنیں۔ مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا، اور وہ اپنی زندگی میں اس خواب کی تکمیل نہ دیکھ سکے۔
بیٹے کے ہاتھوں خواب کی تکمیل — روشن چراغوں کی وراثت
وقت گزرتا رہا… مگر خواب زندہ رہا۔
اس خواب کو نئی سانسیں اس وقت ملیں جب ان کے فرزند غلام حیدر اعوان نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس خواہش کو حقیقت میں ڈھالنے کا بیڑا اٹھایا۔
آج الحمدللہ، موضع اوگالی میں قائم ہونے والی یہ شاندار لائبریری ایک خواب کی تعبیر ہی نہیں، بلکہ ایک عزم کی جیت، محنت کی خوشبو اور والد کی محبت و وراثت کا روشن استعارہ بن چکی ہے۔
یہ لائبریری نوجوانوں کے لیے علم کا ایسا مینار ہے جو انہیں نئی منزلوں کی طرف رہنمائی دے گا۔
یہ مستقبل کے سکالرز، محققین اور اہلِ دانش کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔
یہ گاؤں کی فضا میں علم و آگہی کی خوشبو بکھیرے گی۔
یہ نسلوں کی تربیت کا ایسا مرکز بنے گی جس کا فیض آنے والے برسوں تک جاری رہے گا۔
علم کی روشنی—جو گاؤں کو بدل دے گی
جب کسی گاؤں میں لائبریری قائم ہوتی ہے تو دراصل وہاں سوچ کا نیا موسم اترتا ہے۔
اوگالی کے نوجوان اب صرف خواب دیکھنے والے نہیں رہیں گے، وہ ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ لائبریری ان کے افکار کو بلند کرے گی، ان کی نظر وسیع کرے گی اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرے گی۔
یہ گاؤں کی شناخت کو بھی نئی شان بخشے گی۔
آج اوگالی صرف وادیٔ سون کا ایک گاؤں نہیں رہا، یہ علم کی ایک چھوٹی مگر روشن بستی بن چکا ہے—ایک ایسی بستی جہاں علم کے چراغ ہمیشہ جلتے رہیں گے۔
نتیجہ — روشنی کا سفر جاری رہے گا
لائبریری کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب وہ محبت، خلوص اور خدمتِ خلق کے جذبے سے قائم کی جائے۔
الحاج کیپٹن غلام محمد مرحوم کا خواب اور غلام حیدر اعوان کی عملی کاوش اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کی شمع کبھی بجھتی نہیں، وہ جلتی ہے… اور دوسروں کے دلوں کو روشن کرتی ہے۔
یہ لائبریری نہ صرف کتابوں کا گھر ہے بلکہ خوابوں کا مسکن، امیدوں کا چراغ اور مستقبل کی بنیاد ہے۔
اوگالی کی مٹی میں آج علم کا جو بیج بویا گیا ہے، وہ ان شاء اللہ آنے والی نسلوں کے لیے ہرے بھرے درخت کی صورت پھلے گا اور پوری وادی کو اپنے سائے میں لے لے گا۔
اپیل ھے کہ اپنے اڑوس پڑوس
رشتہ دار نوجوانو کو ترغیب دیں کہ کتاب دوست بنیں
اس شاندار لائیبریری سے استفادہ کریں
السلام
خیر اندیش گل سلطان